نئی دہلی،21/اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 18 نومبر سے شروع ہو کر 13 دسمبر تک چلے گا۔اس سیشن میں حکومت کئی اہم آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے پر زور دے گی وہی اپوزیشن کا زور اقتصادی بحران و کشمیر جیسے مسائل پر رہے گا۔آٹو سیکٹر کی مندی اور کشمیر کا مسئلہ حالیہ دنوں میں کافی بحث میں رہا۔کشمیر میں اب بھی انٹرنیٹ پر پابندی لگی ہوئی ہے۔سیشن کے دوران آٹو سیکٹر سے لے کر دیگر علاقوں میں جاری اقتصادی بحران کو لے کر حکومت کے خلاف اپوزیشن متحد ہو سکتا ہے۔گزشتہ دنوں آٹو سیکٹر میں بھاری کمی کی خبر آئی تھی۔ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی اسی طرح کی خبریں آ رہی تھیں۔اس کے بعد حکومت نے کچھ اعلانات کرکے اقتصادیات کو ٹیکس میں چھوٹ دے کر ریلیف دینے کابیان بھی کیا تھا۔ جی ڈی پی کی شرح میں بھی کمی کا اندازہ ہے۔ ایسے میں حکومت کے خلاف اگر اپوزیشن متحد ہوا تو پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔دوسرا مسئلہ جموں و کشمیر کا ہے۔ 5 اگست جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹا لیا گیا تھا۔وہاں کے کچھ لیڈر اب بھی گرفتار ہیں۔پوسٹ پیڈ موبائل شروع کر دیا گیا ہے لیکن ایس ایم ایس سروس اب بھی بند ہے۔اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن اٹھا سکتا ہے۔ وہیں اقتصادی محاذ پر ملک کو ہینڈل کرنے کا حکومت نے کئی اعلانات کیا۔آٹو سمیت کئی دوسرے سیکٹر سے بحران کی خبریں آ رہی تھیں۔ایسے میں حکومت نے انڈسٹری کو راحت دینے کے لئے کئی اہم اعلانات کیے۔کمپنی کے ٹیکس میں کمی سمیت کئی راحت دی گئی۔حکومت اس سے متعلق آرڈیننس کو قانون بنانے کی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔ان میں سے ایک آرڈیننس ستمبر میں انکم ٹیکس ایکٹ، 1961 اور فنانس ایکٹ، 2019 میں ترمیم کے لئے جاری کیا گیا تھا۔ای سگریٹ کو لے کر حکومت نے کافی سخت اقدامات کئے ہیں جس کے تحت ای سگریٹ اور اسی طرح کے آلات کی فروخت، تعمیر اور اسٹوریج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سے متعلق آرڈیننس ستمبر میں جاری کیا گیا تھا۔اس سرمائی اجلاس میں حکومت اس کوقانونی شکل دینے کی کوشش کرے گی۔گزشتہ دو سالوں میں سرمائی اجلاس 21 نومبر کو شروع ہوا تھا اور جنوری کے پہلے ہفتے تک چلا تھا۔